شارق کیفی — شاعر کی تصویر

اچھا تو تم ایسے تھے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

اچھا تو تم ایسے تھے

اچھا تو تم ایسے تھے
دور سے کیسے لگتے تھے
ہاتھ تمہارے شال میں بھی
کتنے ٹھنڈے رہتے تھے
سامنے سب کے اس سے ہم
کھنچے کھنچے سے رہتے تھے
آنکھ کہیں پر ہوتی تھی
بات کسی سے کرتے تھے
قربت کے ان لمحوں میں
ہم کچھ اور ہی ہوتے تھے
ساتھ میں رہ کر بھی اس سے
چلتے وقت ہی ملتے تھے
اتنے بڑے ہو کے بھی ہم
بچوں جیسا روتے تھے
جلد ہی اس کو بھول گئے
اور بھی دھوکے کھانے تھے

achchha to tum aise the

achchhā to tum aise the
duur se kaise lagte the
haath tumhāre shaal meñ bhī
kitne ThanDe rahte the
sāmne sab ke us se ham
khiñche khiñche se rahte the
aañkh kahīñ par hotī thī
baat kisī se karte the
qurbat ke un lamhoñ meñ
ham kuchh aur hī hote the
saath meñ rah kar bhī us se
chalte vaqt hī milte the
itne baḌe ho ke bhī ham
bachchoñ jaisā rote the
jald hī us ko bhuul ga.e
aur bhī dhoke khāne the

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام