ایسا کرتے ہیں صبح ٹالتے ہیں
دن کسی اور دن نکالتے ہیں
ویسے خود کو بھی تھام لیں تو بہت
پی کے سارا جہاں سنبھالتے ہیں
ہم کو واپس کریں ہمارا گلاب
بھیڑ کی سمت کیوں اچھالتے ہیں
مل ہی جاتی ہے کوئی کام کی شے
بیٹھ کے خود کو جب کھنگالتے ہیں
واپسی کا کوئی ارادہ نہیں
یوں بھی سب واپسی پہ ٹالتے ہیں
شارق کیفی
aisā karte haiñ sub.h Tālte haiñ
din kisī aur din nikālte haiñ
vaise ḳhud ko bhī thaam leñ to bahut
pī ke saarā jahāñ sañbhālte haiñ
ham ko vāpas kareñ hamārā gulāb
bhiiḌ kī samt kyoñ uchhālte haiñ
mil hī jaatī hai koī kaam kī shai
baiTh ke ḳhud ko jab khañgālte haiñ
vāpsī kā koī irāda nahīñ
yuuñ bhī sab vāpsī pe Tālte haiñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں