چنے میرے سویم کے
صبح
سوا میرے سسرال والوں کے کس نے پڑھے
جانتا ہوں
شام کی فاتحہ میں بھی گنتی سروں کی اگر کم رہی
تو اس کے سبب کا مجھے خوب اندازہ ہے
دیگ آدھی بچی رہ گئی قورمے کی
کوئی غم نہیں
مگر میری بیوی نے جس بے دلی سے
دعا کی مری مغفرت کے لیے
اصل صدمہ تو وہ ہے
شارق کیفی
chane mere soyam ke
sub.h
sivā mere sasurāl vāloñ ke kis ne paḌhe
jāntā huuñ
shaam kī fātiha meñ bhī gintī saroñ kī agar kam rahī
to is ke sabab kā mujhe ḳhuub andāza hai
deg aadhī bachī rah ga.ī qorme kī
koī ġham nahīñ
magar merī biivī ne jis be-dilī se
du'ā kī mirī maġhfirat ke liye
asl sadma to vo hai
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں