بات کرتے تھے اور پتھر تھے
لوگ باہر نہیں تھے اندر تھے
پیچھے پیچھے جو چل رہے تھے مرے
وہ تماشائی تھے کہ بے گھر تھے
سارا گھر سو رہا تھا آنگن میں
کیسے ترتیب وار بستر تھے
رات چھوٹی بڑی تو ہوتی تھی
خواب سب نیند کے برابر تھے
یہ تو لکھنے کو مجھ سے چھوٹ گیا
بیچ میں جنگ کے بھی منظر تھے
شارق کیفی
baat karte the aur patthar the
log bāhar nahīñ the andar the
pīchhe-pīchhe jo chal rahe the mire
vo tamāshā.ī the ki be-ghar the
saarā ghar so rahā thā āñgan meñ
kaise tartīb-vār bistar the
raat chhoTī baḌī to hotī thī
ḳhvāb sab niiñd ke barābar the
ye to likhne ko mujh se chhūT gayā
biich meñ jang ke bhī manzar the
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں