بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا
بھیڑ اٹھ جائے گی تب کہا جائے گا
نوجوانوں سے رشتہ بناؤں گا پھر
رات بھر گھر سے باہر رہا جائے گا
پھر سے بیٹھوں گا تسنیم کی ٹال پر
پھر پڑوسی سے جھگڑا کیا جائے گا
وہ جو اک یار ہے اپنے بچپن کا یار
اس کے گھر بھی کسی دن رکا جائے گا
ایک دم کٹ گیا ہوں محلے سے میں
پھر سے شادی ولیمہ کیا جائے گا
اتنی جلدی بھی کیا ہے شفا کی تمہیں
وقت آنے پہ اچھا کیا جائے گا
ساری نظریں کنارے پہ رہ جائیں گی
ایک سر جھیل میں ڈوبتا جائے گا
شارق کیفی
baat rakhne kā mauqa' diyā jā.egā
bhiiḌ uTh jā.egī tab kahā jā.egā
naujavānoñ se rishte banā.ūñgā phir
rāt-bhar ghar se bāhar rahā jā.egā
phir se baiThūñgā tasnīm kī Taal par
phir paḌosī se jhagḌā kiyā jā.egā
vo jo ik yaar hai apne bachpan kā yaar
us ke ghar bhī kisī din rukā jā.egā
ek dam kaT gayā huuñ mohalle se maiñ
phir se shādī valīma kiyā jā.egā
itnī jaldī bhī kyā hai shifā kī tumheñ
vaqt aane pe achchhā kiyā jā.egā
saarī nazreñ kināre pa rah jā.eñgī
ek sar jhiil meñ Dūbtā jā.egā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں