برابر جسم کو دھمکا رہی ہے
ہماری موت کہہ کر آ رہی ہے
چلو تھوڑا بہت تو سو لیے ہم
مگر اب اور سستی چھا رہی ہے
محلے بھر کی خاموشی کا مطلب
مری آواز باہر جا رہی ہے
اداسی کر رہی ہے اپنا عادی
ابھی شرطیں نہیں منوا رہی ہے
سمجھ لو ہو چکا ہے کام آساں
اگر وہ مشکلیں گنوا رہی ہے
جسے نادان سمجھا تھا وہ لڑکی
بڑی مشکل سے دھوکا کھا رہی ہے
ہمیں اس جنگ کو ہارے نہیں ہیں
تمہاری سلطنت بھی جا رہی ہے
شارق کیفی
barābar jism ko dhamkā rahī hai
hamārī maut kah kar aa rahī hai
chalo thoḌā bahut to so liye ham
magar ab aur sustī chhā rahī hai
mohalle bhar kī ḳhāmoshī kā matlab
mirī āvāz bāhar jā rahī hai
udāsī kar rahī hai apnā 'aadī
abhī sharteñ nahīñ manvā rahī hai
samajh lo ho chukā hai kaam āsāñ
agar vo mushkileñ ginvā rahī hai
jise nādān samjhā thā vo laḌkī
baḌī mushkil se dhokā khā rahī hai
hamīñ is jang ko haare nahīñ haiñ
tumhārī saltanat bhī jā rahī hai
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں