شارق کیفی — شاعر کی تصویر

بھیڑ میں جب تک رہتے ہیں جوشیلے ہیں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

بھیڑ میں جب تک رہتے ہیں جوشیلے ہیں

بھیڑ میں جب تک رہتے ہیں جوشیلے ہیں
الگ الگ ہم لوگ بہت شرمیلے ہیں
خواب کے بدلے خون چکانا پڑتا ہے
آنکھوں کے یہ کھیل بڑے خرچیلے ہیں
بینائی بھی کیا کیا دھوکے دیتی ہے
دور سے دیکھو سارے دریا نیلے ہیں
صحرا میں بھی گاؤں کا دریا ساتھ رہا
دیکھو میرے پاؤں ابھی تک گیلے ہیں

bhiD mein jab tak rahte hain joshile hain

bhiiḌ meñ jab tak rahte haiñ joshīle haiñ
alag alag ham log bahut sharmīle haiñ
ḳhvāb ke badle ḳhuun chukānā paḌtā hai
āñkhoñ ke ye khel baḌe ḳharchīle haiñ
bīnā.ī bhī kyā kyā dhoke detī hai
duur se dekho saare dariyā niile haiñ
sahrā meñ bhī gā.ūñ kā dariyā saath rahā
dekho mere paaoñ abhī tak giile haiñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام