شارق کیفی — شاعر کی تصویر

بھیڑ نہیں یہ آنکھیں ہیں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

بھیڑ نہیں یہ آنکھیں ہیں

بھیڑ نہیں یہ آنکھیں ہیں
اور ان آنکھوں میں
کسی کے چشمے کا نمبر بڑھ جاتا ہے تو
میں دھندلا ہو جاتا ہوں
مجبوری ہے میری
رشتے رکھنا کچھ اچھی آنکھوں سے
گرم ہاتھوں سے
سچ تو یہ ہے
میرا ہونا ہی تب ثابت ہوتا ہے جب
کوئی مجھ کو دیکھے
مجھ کو ہاتھ لگائے
بھیڑ نہیں یہ وہ آنکھیں ہیں
جن سے ہوں میں

bhiD nahin ye aankhen hain

bhiiḌ nahīñ ye āñkheñ haiñ
aur in āñkhoñ meñ
kisī ke chashme kā number baḌh jaatā hai to
maiñ dhuñdlā ho jaatā huuñ
majbūrī hai merī
rishte rakhnā kuchh achchhī āñkhoñ se
garm hāthoñ se
sach to ye hai
merā honā hī tab sābit hotā hai jab
koī mujh ko dekhe
mujh ko haath lagā.e
bhiiḌ nahīñ ye vo āñkheñ haiñ
jin se huuñ maiñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام