چاند کل ایسا لگا تاروں کے بیچ
کوئی عاشق جیسے غم خواروں کے بیچ
سب سے تنہا لوگ صحرا میں نہیں
گھومتے پھرتے ہیں بازاروں کے بیچ
ایک سایہ اور بھی آنگن میں تھا
دھوپ میں بیٹھے ہوئے یاروں کے بیچ
موت جس کے نام سے تم ڈر گئے
روز کا قصہ ہے بیماروں کے بیچ
کون سے دل سے اسے ہم گھر کہیں
ایک چھت ہے چار دیواروں کے بیچ
کیسی کھل کر سانس آتی تھی مجھے
ہو گیا بیمار بیماروں کے بیچ
شارق کیفی
chāñd kal aisā lagā tāroñ ke biich
koī 'āshiq jaise ġham-ḳhvāroñ ke biich
sab se tanhā log sahrā meñ nahīñ
ghūmte phirte haiñ bāzāroñ ke biich
ek saaya aur bhī āñgan meñ thā
dhuup meñ baiThe hue yāroñ ke biich
maut jis ke naam se tum Dar ga.e
roz kā qissa hai bīmāroñ ke biich
kaun se dil se ise ham ghar kaheñ
ek chhat hai chaar dīvāroñ ke biich
kaisī khul kar saañs aatī thī mujhe
ho gayā bīmār bīmāroñ ke biich
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں