چھوٹ رہا ہے گھر جیسا کچھ
پیٹھ پہ ہے بستر جیسا کچھ
نقطوں کو ہر ڈھنگ سے برتا
نہیں بنا منظر جیسا کچھ
کل کا سویرا ایک پہیلی
نیند سے پہلے ڈر جیسا کچھ
دو روحیں دو جسم ملا کر
بن جاتا ہے گھر جیسا کچھ
گل ہی اچھالا ہو گا تم نے
مجھے لگا پتھر جیسا کچھ
اس لمحے کا وجود ہمارا
ڈولتے پھرتے پر جیسا کچھ
شارق کیفی
chhūT rahā hai ghar jaisā kuchh
piiTh pe hai bistar jaisā kuchh
nuqtoñ ko har Dhang se bartā
nahīñ banā manzar jaisā kuchh
kal kā saverā ek pahelī
niiñd se pahle Dar jaisā kuchh
do rūheñ do jism milā kar
ban jaatā hai ghar jaisā kuchh
gul hī uchhālā hogā tum ne
mujhe lagā patthar jaisā kuchh
is lamhe kā vujūd hamārā
Dolte phirte par jaisā kuchh
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں