در قفس تک جانے دینا
اتنی دوڑ لگانے دینا
پتلی گردن بری لگے گی
گولی سے مر جانے دینا
پچھلی بنچ کا بچہ ہے دل
اس کو ہاتھ اٹھانے دینا
تم کھو جانا رقص میں اپنے
میرا سر چکرانے دینا
پیاس بجھا کر واپس آنا
سورج کو دھمکانے دینا
یاد کسی کی کون سگی ہے
مرتی ہو مر جانے دینا
شارق کیفی
dar-e-qafas tak jaane denā
itnī dauḌ lagāne denā
patlī gardan burī lagegī
golī se mar jaane denā
pichhlī bench kā bachcha hai dil
is ko haath uThāne denā
tum kho jaanā raqs meñ apne
merā sar chakrāne denā
pyaas bujhā kar vāpas aanā
sūraj ko dhamkāne denā
yaad kisī kī kaun sagī hai
martī ho mar jaane denā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں