شارق کیفی — شاعر کی تصویر

دروازے پر بستر — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

دروازے پر بستر

ہاں یہی گھر ہے جہاں
میرے کمرے اور دروازہ کے بیچ
دستکیں ہی دستکیں تھیں
اور میرا حکم
یہ کہہ دو کہ میں گھر پر نہیں
آج دروازے پہ بستر ہے مرا
شور سے اندر کے بچنے کے لیے
دور کی آہٹ پہ سارا دھیان ہے
اک رضائی بھر بچا ہے جب وجود
کھولنا کنڈی بہت آسان ہے
آج دروازے پہ بستر ہے مرا
وقت نے کم کر دیا ہے فاصلہ
دستک کا میرے کان سے

darwaze par bistar

haañ yahī ghar hai jahāñ
mere kamre aur darvāze ke biich
dastakeñ hī dastakeñ thiiñ
aur merā hukm
ye kah do ki maiñ ghar par nahīñ
aaj darvāze pe bistar hai mirā
shor se andar ke bachne ke liye
duur kī aahaT pe saarā dhyān hai
ik razā.ī bhar bachā hai jab vujūd
kholnā kunDī bahut āsān hai
aaj darvāze pe bistar hai mirā
vaqt ne kam kar diyā hai fāsla
dastak kā mere kaan se

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام