دل میں کچھ ہو تو مسکرائیے گا
بے سبب کام مت بڑھائیے گا
ہم کو مل جائیں آپ جیسے ہزار
اتنی دنیا بھی مت دکھائیے گا
خود کشی سے ہی دیجئے گا جواب
موت کی دھونس میں نہ آئیے گا
آئیے گا گناہ کرنے قبول
جب عدالت سے چھوٹ جائیے گا
عشق اتنا بڑا گناہ نہیں
چھپ نہ پائے تو مت چھپائیے گا
بے وفا یار ایک نعمت ہے
ورنہ کب تک کسے نبھائیے گا
یہ جو ہر وقت ہے گھڑی پہ نظر
ایسے رستہ نہ دیکھ پائیے گا
ہم نے اس بار تو منا لیا ہے
اب یہ خطرہ نہیں اٹھائیے گا
شارق کیفی
dil meñ kuchh ho to muskurā.iyegā
be-sabab kaam mat baḌhā.iyegā
ham ko mil jaa.eñ aap jaise hazār
itnī duniyā bhī mat dikhā.iyegā
ḳhud-kushī se hī dījiyegā javāb
maut kī dhauñs meñ na ā.iyegā
ā.iyegā gunāh karne qubūl
jab 'adālat se chhūT jā.iyegā
'ishq itnā baḌā gunāh nahīñ
chhup na paa.e to mat chhupa.iyegā
bevafā yaar ek ne'mat hai
varna kab tak kise nibhā.iyegā
ye jo har vaqt hai ghaḌī pe nazar
aise rasta na dekh pā.iyegā
ham ne is baar to manā liyā hai
ab ye ḳhatra nahīñ uThā.iyegā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں