میں تجھ سے کیوں خفا ہونے لگا قاضی
مری تو روح تو نے پاک کر دی یہ سزا دے کر
کبھی میں سوچتا بھی جرم کو اپنے
تو اب شاید نہ سوچوں گا
ہاں
برا گر مان سکتا ہے
تو میرا دوسرا یہ ہاتھ
جس کا ایک ہی ساتھی تھا اس دنیا میں
جو کہنی سے تو نے کاٹ ڈالا
اور یہ اپنے یار کا غم
کس قدر
اور کس طرح لیتا ہے دل پر
اس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے
شارق کیفی
maiñ tujh se kyuuñ ḳhafā hone lagā qaazī
mirī to ruuh tū ne paak kar dī ye sazā de kar
kabhī maiñ sochtā bhī jurm ko apne
to ab shāyad na sochūñgā
haañ
burā gar maan saktā hai
to merā dūsrā ye haath
jis kā ek hī sāthī thā is duniyā meñ
jo kuhnī se tū ne kaaT Daalā
aur ye apne yaar kā ġham
kis qadar
aur kis tarah letā hai dil par
is kā mujhe koī andāza nahīñ hai
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں