ایک ایسا بھی وقت آتا ہے
سایہ دیوار بھول جاتا ہے
چاہئے ہم کو دنیا والی آنکھ
آسماں کتنا دیکھ پاتا ہے
ایسا پہلے نہیں تھا میرے ساتھ
گھر بہت دور تک بلاتا ہے
روٹھ کر ہم بھی بھول جاتے ہیں
دوسرا بھی نہیں مناتا ہے
وہ بھنور تو ابھی پڑا ہی نہیں
جو کنارہ بھی ساتھ لاتا ہے
وہ جنوں جس پہ ناز تھا مجھ کو
اب تماشے کے کام آتا ہے
شارق کیفی
ek aisā bhī vaqt aatā hai
saaya dīvār bhuul jaatā hai
chāhiye ham ko duniyā vaalī aañkh
āsmāñ kitnā dekh paatā hai
aisā pahle nahīñ thā mere saath
ghar bahut duur tak bulātā hai
ruuTh kar ham bhī bhuul jaate haiñ
dūsrā bhī nahīñ manātā hai
vo bhañvar to abhī paḌā hī nahīñ
jo kināra bhī saath laatā hai
vo junūñ jis pe naaz thā mujh ko
ab tamāshe ke kaam aatā hai
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں