شارق کیفی — شاعر کی تصویر

فسردہ کر گیا اگلے زمانوں سے گزرنا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

فسردہ کر گیا اگلے زمانوں سے گزرنا

فسردہ کر گیا اگلے زمانوں سے گزرنا
ہوا کی شکل میں خالی مکانوں سے گزرنا
دھواں بوجھل فضائے میکدہ اور پھر اچانک
کسی بے ساختہ جملے کا کانوں سے گزرنا
کسی آسیب کو مٹی نہیں دیتا ہے کوئی
ہمیں مر کر بھی ہے اپنے ہی شانوں سے گزرنا
یہ جوکھم ہی نئے کچھ رنگ بھر سکتا ہے شب میں
مرا اس وقت دشمن کے ٹھکانوں سے گزرنا
کسی پتھر کی صورت سخت و ساکت ہوں ابھی میں
ابھی باقی ہے میرا خاک دانوں سے گزرنا
ابھی اونچائی پر نظریں ہیں لیکن واپسی میں
گراں ہوگا بہت ایسی ڈھلانوں سے گزرنا

fasurda kar gaya agle zamanon se guzarna

fasurda kar gayā agle zamānoñ se guzarnā
havā kī shakl meñ ḳhālī makānoñ se guzarnā
dhuāñ bojhal fazā-e-mai-kada aur phir achānak
kisī be-sāḳhta jumle kā kānoñ se guzarnā
kisī aaseb ko miTTī nahīñ detā hai koī
hameñ mar kar bhī hai apne hī shānoñ se guzarnā
ye jokham hī na.e kuchh rang bhar saktā hai shab meñ
mirā is vaqt dushman ke Thikānoñ se guzarnā
kisī patthar kī sūrat saḳht-o-sākit huuñ abhī maiñ
abhī baaqī hai merā ḳhāk-dānoñ se guzarnā
abhī ūñchā.ī par nazreñ haiñ lekin vāpsī meñ
girāñ hogā bahut aisī Dhalānoñ se guzarnā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام