ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا
کسی نے خط نہیں کھولا ہمارا
پڑھائی چل رہی ہے زندگی کی
ابھی اترا نہیں بستہ ہمارا
معافی اور اتنی سی خطا پر
سزا سے کام چل جاتا ہمارا
کسی کو پھر بھی مہنگے لگ رہے تھے
فقط سانسوں کا خرچہ تھا ہمارا
یہیں تک اس شکایت کو نہ سمجھو
خدا تک جائے گا جھگڑا ہمارا
طرف داری نہیں کر پائے دل کی
اکیلا پڑ گیا بندہ ہمارا
تعارف کیا کرا آئے کسی سے
اسی کے ساتھ ہے سایہ ہمارا
نہیں تھے جشن یاد یار میں ہم
سو گھر پر آ گیا حصہ ہمارا
ہمیں بھی چاہیے تنہائی شارقؔ
سمجھتا ہی نہیں سایہ ہمارا
شارق کیفی
hamīñ tak rah gayā qissa hamārā
kisī ne ḳhat nahīñ kholā hamārā
paḌhā.ī chal rahī hai zindagī kī
abhī utrā nahīñ basta hamārā
muāfī aur itnī sī ḳhatā par
sazā se kaam chal jaatā hamārā
kisī ko phir bhī mahñge lag rahe the
faqat sāñsoñ kā ḳharcha thā hamārā
yahīñ tak is shikāyat ko na samjho
ḳhudā tak jā.egā jhagḌā hamārā
taraf-dārī nahīñ kar paa.e dil kī
akelā paḌ gayā banda hamārā
ta.āruf kyā karā aa.e kisī se
usī ke saath hai saaya hamārā
nahīñ the jashn-e-yād-e-yār meñ ham
so ghar par aa gayā hissa hamārā
hameñ bhī chāhiye tanhā.ī 'shāriq'
samajhtā hī nahīñ saaya hamārā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں