شارق کیفی — شاعر کی تصویر

ذرا سی بات پر گھبرانے والے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

ذرا سی بات پر گھبرانے والے

ذرا سی بات پر گھبرانے والے
عجب ہم کو ملے سمجھانے والے
ہمیں تو رات بھر کو چاہئیں لوگ
کہاں ہیں بات کو الجھانے والے
زمانہ سے نہیں آئے وہ طوفاں
ہمیں صحراؤں تک پھیلانے والے
یہی تو اصل مجرم ہیں تمہارے
تمہیں مجرم نہیں ٹھہرانے والے
مگر یہ بول میٹھے ہی رہیں گے
بدل جائیں گے ان کو گانے والے

hawas mein mubtala hum ko mila tha

havas meñ mubtalā ham ko milā thā
ye dil bigḌā huā ham ko milā thā
purānā aa.ina yuuñ toḌ Daalā
vo chehroñ se bharā ham ko milā thā
hamesha se thī phīkī raushnā.ī
qalam TuuTā huā ham ko milā thā
tirī āñkhoñ se ham ko yaad aayā
yahāñ kuchh kaam kā ham ko milā thā
misālī kah rahe haiñ aap jis ko
ye ġham martā huā ham ko milā thā
banā jo bā'is-e-rusvā.ī 'shāriq'
vo ḳhat likkhā huā ham ko milā thā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام