سونا آنگن نیند میں ایسے چونک اٹھا ہے
سوتے میں بھی جیسے کوئی سسکی لیتا ہے
گھر میں تو اس ماحول کا میں عادی ہوں لیکن
بازاروں کی ویرانی سے دم گھٹتا ہے
مدت سے میں سوچ رہا تھا اب سمجھا ہوں
جیب اور آنکھ کے خالی پن میں کیا رشتہ ہے
اتنے لوگ مجھے رخصت کرنے آئے ہیں
گھر واپس جانا بھی تماشا سا لگتا ہے
لوگ تو اپنی جانب سے کچھ جوڑ ہی لیں گے
اتنی ادھوری باتیں ہیں وہ کیوں کرتا ہے
اپنی کیا ان رستوں کے بارے میں سوچوں
ان کا سفر تو میری عمر سے بھی لمبا ہے
اس کی آنکھوں سے اوجھل مت ہونا شارقؔ
پیچھا کرنے والا بہت تنہا ہوتا ہے
شارق کیفی
ham aisā nahīñ ghar nahīñ ā.eñge
magar ghar samajh kar nahīñ ā.eñge
jhagaḌne se pahle pata thā mujhe
mere log bāhar nahīñ ā.eñge
tire hī liye ā.eñge tere paas
kisī se bichhaḌ kar nahīñ ā.eñge
ye laḌke jo aa.e haiñ chhat kuud kar
bulāne se andar nahīñ ā.eñge
burā māniye to burā māniye
ijāzat to lekar nahīñ ā.eñge
inheñ bhī gale se lagātā chalūñ
ye dushman mayassar nahīñ ā.eñge
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں