ہشیاری کا مول چکاتا رہتا ہوں
نادانوں سے دھوکے کھاتا رہتا ہوں
لے آتا ہوں ہر رشتے کو جھگڑے تک
پھر جھگڑے سے کام چلاتا رہتا ہوں
لشکر میں اک کام مرے ذمے بھی ہے
سب کو گھر کی یاد دلاتا رہتا ہوں
دیکھو اس کو کب فرصت ہو ملنے کی
جس کے لئے میں سال بچاتا رہتا ہوں
اچھی خاصی دنیا دیکھی ہے میں نے
کمرے سے دالان میں آتا رہتا ہوں
شارق کیفی
hushyārī kā mol chukātā rahtā huuñ
nā-dānoñ se dhoke khātā rahtā huuñ
le aatā huuñ har rishte ko jhagḌe tak
phir jhagḌe se kaam chalātā rahtā huuñ
lashkar meñ ik kaam mire zimme bhī hai
sab ko ghar kī yaad dilātā rahtā huuñ
dekho us ko kab fursat ho milne kī
jis ke liye maiñ saal bachātā rahtā huuñ
achchhī-ḳhāsī duniyā dekhī hai maiñ ne
kamre se dālān meñ aatā rahtā huuñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں