تھکن اوروں پہ حاوی ہے مری
رہائی اب ضروری ہے مری
بہت سنجیدگی درکار ہے
ہنسی بھی چھوٹ سکتی ہے مری
مجھے جینے نہیں دیتا کوئی
سبھی کو جان پیاری ہے مری
اسے میں بھول سکتا ہوں مگر
انا مجروح ہوتی ہے مری
وہی تو آج دشمن ہیں مرے
جنہوں نے بات مانی ہے مری
اگر اب ساتھ ہیں تو کیا ہوا
ہنسی سب نے اڑائی ہے مری
شارق کیفی
'ishq ko jitnā bhī samjhā ham ne
bevafā.ī meñ hī samjhā ham ne
aañkh khulne ko karāmat jaanā
sub.h ko vāpsī samjhā ham ne
vasl ke baa'd kiyā vasl pe ġhaur
hijr ko peshgī samjhā ham ne
vo jo pahle se pata thā ham ko
dūsroñ se vahī samjhā ham ne
har palak pahlī thī jhapkā.ī jo
saañs ko āḳhirī samjhā ham ne
aaj inkār kiyā jānñe se
aaj kuchh vāqa'ī samjhā ham ne
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں