اتنا اپنا ہو جاتا ہوں
چادر تکیہ ہو جاتا ہوں
تجھ کو کمانے کے چکر میں
تیرا خسارہ ہو جاتا ہوں
بازاروں کی چمک دمک میں
اور پرانا ہو جاتا ہوں
جس کی پیٹھ ہو میری جانب
اس کا سایہ ہو جاتا ہوں
کھونے تک تو ٹھیک ہے لیکن
ڈھونڈھنے والا ہو جاتا ہوں
سچ کی شکل بدل جاتی ہے
اور میں جھوٹا ہو جاتا ہوں
خود ہی تماشہ کرتے کرتے
محو تماشا ہو جاتا ہوں
لگتا یہ ہے مر جاؤں گا
لیکن اچھا ہو جاتا ہوں
شارق کیفی
itnā apnā ho jaatā huuñ
chādar takiya ho jaatā huuñ
tujh ko kamāne ke chakkar meñ
terā ḳhasāra ho jaatā huuñ
bāzāroñ kī chamak-damak meñ
aur purānā ho jaatā huuñ
jis kī piiTh ho merī jānib
us kā saaya ho jaatā huuñ
khone tak to Thiik hai lekin
DhūñDhne vaalā ho jaatā huuñ
sach kī shakl badal jaatī hai
aur maiñ jhūTā ho jaatā huuñ
ḳhud hī tamāsha karte karte
mahv-e-tamāshā ho jaatā huuñ
lagtā ye hai mar jā.uñgā
lekin achchhā ho jaatā huuñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں