اتنا ہم گھبرا گئے خود سے
بھاگے تو ٹکرا گئے خود سے
موت تو سادہ ہی رکھی تھی
رونے والے آ گئے خود سے
اپنا ساتھ تو اور کٹھن تھا
دو دن میں اکتا گئے خود سے
تم دنیا سے یاری رکھنا
ہم تو کام چلا گئے خود سے
اپنے لئے ہم غیر ہی رہتے
آپ ہمیں ملوا گئے خود سے
شارق کیفی
itnā ham ghabrā ga.e ḳhud se
bhāge to Takrā ga.e ḳhud se
maut to saada hī rakkhī thī
rone vaale aa ga.e ḳhud se
apnā saath to aur kaThin thā
do din meñ uktā ga.e ḳhud se
tum duniyā se yaarī rakhnā
ham to kaam chalā ga.e ḳhud se
apne liye ham ġhair hī rahte
aap hameñ milvā ga.e ḳhud se
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں