اتنا تنہائی سے گھبرانے لگے ہیں
بے ضرورت کام الجھانے لگے ہیں
جو بھنور گہرائی میں پڑتے تھے پہلے
اب کنارے پر نظر آنے لگے ہیں
کوئی تو منزل کا رستہ ہے ادھر سے
راستے گھر کی طرف جانے لگے ہیں
یوں بھی لازم ہے نیا کوئی تماشہ
لوگ بازی گر سے اکتانے لگے ہیں
جو ترے کوچے کو جاتے تھے وہ رستے
دوسری دنیا میں لے جانے لگے ہیں
ہو گیا ہے موت کا احساس شاید
جلدی جلدی کام نمٹانے لگے ہیں
شارق کیفی
itnā tanhā.ī se ghabrāne lage haiñ
be-zarūrat kaam uljhāne lage haiñ
jo bhañvar gahrā.ī meñ paḌte the pahle
ab kināre par nazar aane lage haiñ
koī to manzil kā rasta hai idhar se
rāste ghar kī taraf jaane lage haiñ
yuuñ bhī lāzim hai nayā koī tamāsha
log bāzīgar se uktāne lage haiñ
jo tire kūche ko jaate the vo raste
dūsrī duniyā meñ le jaane lage haiñ
ho gayā hai maut kā ehsās shāyad
jaldī jaldī kaam nimTāne lage haiñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں