شارق کیفی — شاعر کی تصویر

جب مجھے کام کا بتایا گیا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

جب مجھے کام کا بتایا گیا

جب مجھے کام کا بتایا گیا
اور بھی مجھ پہ ظلم ڈھایا گیا
اور تو ہم سے کیا کمایا گیا
تیرا غم تھا سو بیچ کھایا گیا
اس کا پہلا سوال واپسی پر
راستہ کیوں نہیں سجایا گیا
ہو چکے تھے بلا کے ہم تیراک
جب ہمیں ڈوبنا سکھایا گیا
ہر غزل کے جواب میں میری
ایک بازارو گیت گایا گیا
تھا کوئی راز بے زبانی کا
جس کو آواز میں چھپایا گیا
چاق و چوبند مجھ کو رہنا پڑا
میرے اتنا قریب آیا گیا

jab mujhe kaam ka bataya gaya

jab mujhe kaam kā batāyā gayā
aur bhī mujh pe zulm Dhāyā gayā
aur to ham se kyā kamāyā gayā
terā ġham thā so bech khāyā gayā
us kā pahlā savāl vāpsī par
rāsta kyoñ nahīñ sajāyā gayā
ho chuke the balā ke ham tairāk
jab hameñ Dūbnā sikhāyā gayā
har ġhazal ke javāb meñ merī
ek bāzārū giit gaayā gayā
thā koī raaz be-zabānī kā
jis ko āvāz meñ chhupāyā gayā
chāq-o-chauband mujh ko rahnā paḌā
mere itnā qarīb aayā gayā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام