شارق کیفی — شاعر کی تصویر

جب نکلے رائے شماری کو — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

جب نکلے رائے شماری کو

جب نکلے رائے شماری کو
تو ٹھیس لگی خودداری کو
ہم وہ ناداں ہیں جن سے کبھی
خطرہ تھا تری ہشیاری کو
اب کس سے کہیں ان گلیوں میں
آئے تھے وقت گزاری کو
کیا سچ کی مجال کہ رد کر دے
اک جھوٹ کی دعوے داری کو
یہ سوٹ یہ ٹائی خیر تو ہے
کیا سمجھیں اس تیاری کو

jab nikle rae-shumari ko

jab nikle rā.e-shumārī ko
to Thes lagī ḳhuddārī ko
ham vo nādāñ haiñ jin se kabhī
ḳhatra thā tirī hushyārī ko
ab kis se kaheñ in galiyoñ meñ
aa.e the vaqt-guzārī ko
kyā sach kī majāl ki rad kar de
ik jhūTh kī dā’ve-dārī ko
ye suiT ye tie ḳhair to hai
kyā samjheñ is tayyārī ko

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام