جشن تجھے ٹھکرا کر ہو گا
رونا دھونا گا کر ہو گا
سچ جو کام نہیں کر پایا
جھوٹی خبر اڑا کر ہو گا
اوڑھ کے سونے والا اندھیرا
اپنی دھوپ کما کر ہو گا
بیٹھ کے سوچو حل مشکل کا
کیا کمرہ پھیلا کر ہو گا
کیوں جائز ہے قتل ہمارا
یہ ہم کو سمجھا کر ہو گا
جس کی خاک سے ہم پیدا ہیں
غسل اسے دفنا کر ہو گا
مرنے سے گھبرا تو رہا ہوں
لیکن کیا گھبرا کر ہو گا
شارق کیفی
jashn tujhe Thukrā kar hogā
ronā-dhonā gā kar hogā
sach jo kaam nahīñ kar paayā
jhūTī ḳhabar uḌā kar hogā
oḌh ke sone vaalā añdherā
apnī dhuup kamā kar hogā
baiTh ke socho hal mushkil kā
kyā kamra phailā kar hogā
kyoñ jaa.ez hai qatl hamārā
ye ham ko samjhā kar hogā
jis kī ḳhaak se ham paidā haiñ
ġhusl use dafnā kar hogā
marne se ghabrā to rahā huuñ
lekin kyā ghabrā kar hogā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں