جاؤں پھر اس کو منانے کے لئے
کچھ نئی قسمیں ہیں کھانے کے لئے
کچھ لطیفے سے زیادہ چاہئے
بیٹھے بیٹھے مسکرانے کے لئے
بس ذرا سی دھوپ مل جاتی ہمیں
اپنے گیلے پر سکھانے کے لئے
یہ جو اب روتے ہیں گھر کی یاد میں
مر رہے تھے ساتھ آنے کے لئے
ایک ساتھی ہوش میں رکھا گیا
واپسی میں گھر بتانے کے لئے
دشمنوں کو گھر پہ لے کر آ گئے
اپنی تیاری دکھانے کے لئے
ہوش تھوڑا سا بچا لیتا ہوں میں
واپسی میں لڑکھڑانے کے لئے
شارق کیفی
jā.ūñ phir us ko manāne ke liye
kuchh na.ī qasmeñ haiñ khāne ke liye
kuchh latīfe se ziyāda chāhiye
baiThe-baiThe muskurāne ke liye
bas zarā sī dhuup mil jaatī hameñ
apne giile par sukhāne ke liye
ye jo ab rote haiñ ghar kī yaad meñ
mar rahe the saath aane ke liye
ek sāthī hosh meñ rakkhā gayā
vāpsī meñ ghar batāne ke liye
dushmanoñ ko ghar pe le kar aa ga.e
apnī tayyārī dikhāne ke liye
hosh thoḌā sā bachā letā huuñ maiñ
vāpsī meñ laḌkhaḌāne ke liye
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں