شارق کیفی — شاعر کی تصویر

جسم بچہ ہے جانے بھر کا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

جسم بچہ ہے جانے بھر کا

جسم بچہ ہے جانے بھر کا
صرف کفن پہنانے بھر کا
کیسا لا محدود جہاں تھا
رقبہ تھا میخانے بھر کا
اک ایسی تصویر ہوں جس میں
رنگ نہیں دھندلانے بھر کا
کچھ بھی نہیں کہہ پائے اس سے
وقت تھا ہاتھ ہلانے بھر کا
اس الزام میں سچ تو چھوڑو
جھوٹ نہیں جھٹلانے بھر کا
ہم اک گھر کے آدھے وارث
دیوانہ ویرانے بھر کا
ان سونی راہوں میں شارقؔ
کام نہیں بھٹکانے بھر کا

jism bacha hai jaane bhar ka

jism bacha hai jaane bhar kā
sirf kafan pahnāne bhar kā
kaisā lā-mahdūd jahāñ thā
raqba thā maiḳhāne bhar kā
ik aisī tasvīr huuñ jis meñ
rang nahīñ dhuñdlāne bhar kā
kuchh bhī nahīñ kah paa.e us se
vaqt thā haath hilāne bhar kā
is ilzām meñ sach to chhoḌo
jhuuT nahīñ jhuTlāne bhar kā
ham ik ghar ke aadhe vāris
dīvāna vīrāne bhar kā
in suunī rāhoñ meñ 'shāriq'
kaam nahīñ bhaTkāne bhar kā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام