شارق کیفی — شاعر کی تصویر

جو اگلا پاؤں دھرنے کے لیے تھی — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

جو اگلا پاؤں دھرنے کے لیے تھی

جو اگلا پاؤں دھرنے کے لیے تھی
وہی سیڑھی اترنے کے لیے تھی
اگر اتنی ہی گہری تھی اداسی
تو پھر وہ رات مرنے کے لیے تھی
اگر وہ آنسوؤں سے نم نہ کرتا
یہ مٹی تو بکھرنے کے لیے تھی
جو پیچھے پیچھے آئی تھی وہ بارش
ہوا کے پر کترنے کے لیے تھی
اکیلے تھے ہم اس انجان گھر میں
بس اک پرچھائیں ڈرنے کے لیے تھی
خدا کو در بہ در کرنے کی کوشش
تجھے آباد کرنے کے لیے تھی

jo agla panw dharne ke liye thi

jo aglā paañv dharne ke liye thī
vahī sīḌhī utarne ke liye thī
agar itnī hī gahrī thī udāsī
to phir vo raat marne ke liye thī
agar vo āñsuoñ se nam na kartā
ye miTTī to bikharne ke liye thī
jo pīchhe pīchhe aa.ī thī vo bārish
havā ke par katarne ke liye thī
akele the ham us anjān ghar meñ
bas ik parchhā.īñ Darne ke liye thī
ḳhudā ko dar-ba-dar karne kī koshish
tujhe ābād karne ke liye thī

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام