شارق کیفی — شاعر کی تصویر

کام نمٹا کے ہم تو سو گئے ہیں — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

کام نمٹا کے ہم تو سو گئے ہیں

کام نمٹا کے ہم تو سو گئے ہیں
دیکھنے بھر کو خواب ہو گئے ہیں
جن کو منزل سے کوئی شغل نہیں
ایسے کچھ لوگ ساتھ ہو گئے ہیں
پہلے وہ کھوے جو تھے مرکز دید
اور اب ساتھ والے کھو گئے ہیں
عشق میں ایسے کچھ سبق بھی ملے
جو ہمیشہ کو یاد ہو گئے ہیں
لہلہائے گا پھر ہمارا وجود
تیری مٹی میں خود کو بو گئے ہیں
یوں کہ بس تیرے آس پاس تھا میں
لوگ میرے بھی پاؤں دھو گئے ہیں

kaam nimTa ke hum to so gae hain

kaam nimTā ke ham to so ga.e haiñ
dekhne-bhar ko ḳhvāb ho ga.e haiñ
jin ko manzil se koī shaġhl nahīñ
aise kuchh log saath ho ga.e haiñ
pahle vo kho.e jo the markaz-e-dīd
aur ab saath vaale kho ga.e haiñ
'ishq meñ aise kuchh sabaq bhī mile
jo hamesha ko yaad ho ga.e haiñ
lahlahā.egā phir hamārā vajūd
terī miTTī meñ ḳhud ko bo ga.e haiñ
yuuñ ki bas tere ās-pās thā maiñ
log mere bhī paañv dho ga.e haiñ

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام