کبھی خود کو چھوکر نہیں دیکھتا ہوں
خدا جانے بس وہم میں مبتلا ہوں
کہاں تک یہ رفتار قائم رہے گی
کہیں اب اسے روکنا چاہتا ہوں
وہ آ کر منا لے تو کیا حال ہوگا
خفا ہو کے جب اتنا خوش ہو رہا ہوں
فقط یہ جتاتا ہوں آواز دے کر
کہ میں بھی اسے نام سے جانتا ہوں
گلی میں سب اچھا ہی کہتے تھے مجھ کو
مجھے کیا پتا تھا میں اتنا برا ہوں
نہیں یہ سفر واپسی کا نہیں ہے
اسے ڈھونڈنے اپنے گھر جا رہا ہوں
شارق کیفی
kabhī ḳhud ko chhūkar nahīñ dekhtā huuñ
ḳhudā jaane bas vahm meñ mubtalā huuñ
kahāñ tak ye raftār qaa.em rahegī
kahīñ ab use roknā chāhtā huuñ
vo aa kar manā le to kyā haal hogā
ḳhafā ho ke jab itnā ḳhush ho rahā huuñ
faqat ye jatātā huuñ āvāz de kar
ki maiñ bhī use naam se jāntā huuñ
galī meñ sab achchhā hī kahte the mujh ko
mujhe kyā patā thā maiñ itnā burā huuñ
nahīñ ye safar vāpsī kā nahīñ hai
use DhūñDne apne ghar jā rahā huuñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں