کہاں ہم میں جھگڑا ہوا تھا کوئی
ندامت میں روٹھا ہوا تھا کوئی
تماشہ یہاں آج ہونا ہی تھا
توجہ کو ترسا ہوا تھا کوئی
اسی جان لیوا بھنور میں کہیں
کنارہ بھی ڈوبا ہوا تھا کوئی
ابھی تک ہیں سیلاب کی زد میں ہم
بس اک پل کو دریا ہوا تھا کوئی
بکھر ہی گیا وہ بھی سامان میں
قرینے سے رکھا ہوا تھا کوئی
شارق کیفی
kahāñ ham meñ jhagḌā huā thā koī
nadāmat meñ rūThā huā thā koī
tamāsha yahāñ aaj honā hī thā
tavajjoh ko tarsā huā thā koī
usī jān-levā bhañvar meñ kahīñ
kināra bhī Duubā huā thā koī
abhī tak haiñ sailāb kī zad meñ ham
bas ik pal ko dariyā huā thā koī
bikhar hī gayā vo bhī sāmān meñ
qarīne se rakkhā huā thā koī
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں