بیچ بچاؤ کرنے باہر جایا جائے
دیواروں سے کب تک جھگڑا دیکھا جائے
اک میں ہوں بس عام سا قیدی کیا میری
اک وہ ہے جو تیرے ہاتھوں پکڑا جائے
ساتھ سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
لیکن منظر اپنا اپنا دیکھا جائے
چارہ گر بھی تو ہے میرا قاتل بھی تو
پہلے تیرے کس چہرے کو رویا جائے
سب سے زیادہ اترائے جو عشق پہ اپنے
اس کو دنیا دار بنا کر مارا جائے
صحرا کا وارث ہونا تو ٹھیک ہے لیکن
اس کمرے کو کس کے بھروسے چھوڑا جائے
شارق کیفی
kahtā hai kār-e-'ishq meñ mar jaanā chāhiye
is ḳhush-gumāñ ko aap se milvānā chāhiye
jhapkā.e jo na aañkh rehearsal ke vaqt bhī
aise tamāshbīn se ghabrānā chāhiye
apne siyāh baal dikhā.ūñ ki surḳh gaal
itnā to maut ko bhī nazar aanā chāhiye
vahshī koī mile to karūñ us se mashvara
sahrā meñ kitnī zor se chillānā chāhiye
ḳhvāhish to hai magar nahīñ tāqat gunāh kī
yā'nī ki vaqt aa gayā pachhtānā chāhiye
kyoñ dasht baar baar mujhe bhejte haiñ aap
bāzār naam kā koī vīrāna chāhiye
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں