خموشی میں گزارہ کر رہا ہوں
اسی سے شور پیدا کر رہا ہوں
نیا رشتہ بنے اس عمر میں کیا
پرانے کو پرانا کر رہا ہوں
مرے رونے پہ مجھ کو ٹوکیے مت
کمائی ہے تو خرچہ کر رہا ہوں
محبت نے دئے جو زخم مجھ کو
انہیں نفرت سے اچھا کر رہا ہوں
یہ دنیا کیا مری نظروں میں آئے
بڑے خوابوں کا پیچھا کر رہا ہوں
سنبھلتا ہوں تو یہ لگتا ہے مجھ کو
تمہارے ساتھ دھوکا کر رہا ہوں
طبیبوں میں گھرا رہتا ہوں شارقؔ
مرض کو جان لیوا کر رہا ہوں
شارق کیفی
ḳhamoshī meñ guzāra kar rahā huuñ
isī se shor paidā kar rahā huuñ
nayā rishta bane is 'umr meñ kyā
purāne ko purānā kar rahā huuñ
mire rone pe mujh ko Tokiye mat
kamā.ī hai to ḳharcha kar rahā huuñ
mohabbat ne diye jo zaḳhm mujh ko
unheñ nafrat se achchhā kar rahā huuñ
ye duniyā kyā mirī nazroñ meñ aa.e
baḌe ḳhvāboñ kā pīchhā kar rahā huuñ
sañbhaltā huuñ to ye lagtā hai mujh ko
tumhāre saath dhokā kar rahā huuñ
tabīboñ meñ ghirā rahtā huuñ 'shāriq'
maraz ko jān-levā kar rahā huuñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں