شارق کیفی — شاعر کی تصویر

خدا کے اس قدر نزدیک جانا پڑ رہا ہے — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

خدا کے اس قدر نزدیک جانا پڑ رہا ہے

خدا کے اس قدر نزدیک جانا پڑ رہا ہے
اسے منصب ہمیں ایماں بچانا پڑ رہا ہے
جسے ہم زندگی بھر یاد رکھنا چاہتے تھے
بہت تیزی سے وہ چہرہ پرانا پڑ رہا ہے
رقیبو تم رکو ممکن ہے وہ ہاتھ آ ہی جائے
ہمیں تو خیر جلدی لوٹ جانا پڑ رہا ہے
کسی پر دیر سے کھولا تھا دل کا راز ہم نے
کسی کو وقت سے پہلے بتانا پڑ رہا ہے
کہاں خاطر میں لاتا تھا وہ میری سادگی کو
اسے پہلے کا اک چہرہ دکھانا پڑ رہا ہے

KHuda ke is qadar nazdik jaana paD raha hai

ḳhudā ke is qadar nazdīk jaanā paḌ rahā hai
use mansab hameñ īmāñ bachānā paḌ rahā hai
jise ham zindagī-bhar yaad rakhnā chāhte the
bahut tezī se vo chehra purānā paḌ rahā hai
raqībo tum ruko mumkin hai vo haath aa hī jaa.e
hameñ to ḳhair jaldī lauT jaanā paḌ rahā hai
kisī par der se kholā thā dil kā raaz ham ne
kisī ko vaqt se pahle batānā paḌ rahā hai
kahāñ ḳhātir meñ laatā thā vo merī sādgī ko
use pahle kā ik chehra dikhānā paḌ rahā hai

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام