خدا نے تو صبر آزمایا مرا
مگر تم نے کیوں دل دکھایا مرا
غموں کے تھے اپنے خسارے مگر
خوشی نے تو گھر بیچ کھایا مرا
چلا تو میں شاید قدم دو قدم
بھروسہ مگر لوٹ آیا مرا
مرا ہاتھ ہو گا گریبان پر
کوئی کچھ اگر کر نہ پایا مرا
چھپا کر ہوا مجھ کو ڈھانے کا کام
سو ملبہ بھی اندر گرایا مرا
کہاں کب اسے کام میں لے لیا
یہ قاتل نہیں جان پایا مرا
مرا جسم بھی یہ نہیں جانتا
کہاں ختم ہوتا ہے سایہ مرا
شارق کیفی
ḳhudā ne to sabr āzmāyā mirā
magar tum ne kyoñ dil dukhāyā mirā
ġhamoñ ke the apne ḳhasāre magar
ḳhushī ne to ghar bech khāyā mirā
chalā to maiñ shāyad qadam do qadam
bharosa magar lauT aayā mirā
mirā haath hogā garebān par
koī kuchh agar kar na paayā mirā
chhupā kar huā mujh ko Dhāne kā kaam
so malba bhī andar girāyā mirā
kahāñ kab use kaam meñ le liyā
ye qātil nahīñ jaan paayā mirā
mirā jism bhī ye nahīñ jāntā
kahāñ ḳhatm hotā hai saaya mirā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں