کس نے سوچا تھا کہ اس حد تک بھی جا سکتا ہوں میں
موت سے بھی عشق کا چکر چلا سکتا ہوں میں
مجھ سے اچھا کوئی آنسو پونچھنے والا نہیں
ساتھ رکھ لے واپسی میں کام آ سکتا ہوں میں
وقت نے گونگا کیا تو ہے مگر اتنا نہیں
گھر اکیلا ہو تو اب بھی گنگنا سکتا ہوں میں
عشق میں تو جان دینے کی اگر ضد چھوڑ دے
روز تجھ کو خود کشی کرنا سکھا سکتا ہوں میں
تم سے بڑھ کر کون دنیا میں مرے نزدیک ہے
اک تمہیں تو ہو کہ جس کا دل دکھا سکتا ہوں میں
بھیڑ کا شکوہ ہمیشہ دوسروں سے کس لئے
یار خود کو بھی تو رستہ سے ہٹا سکتا ہوں میں
شارق کیفی
kis ne sochā thā ki is had tak bhī jā saktā huuñ maiñ
maut se bhī 'ishq kā chakkar chalā saktā huuñ maiñ
mujh se achchhā koī aañsū poñchhne vaalā nahīñ
saath rakh le vāpsī meñ kaam aa saktā huuñ maiñ
vaqt ne gūñgā kiyā to hai magar itnā nahīñ
ghar akelā ho to ab bhī gungunā saktā huuñ maiñ
'ishq meñ tū jaan dene kī agar zid chhoḌ de
roz tujh ko ḳhud-kushī karnā sikhā saktā huuñ maiñ
tum se baḌh kar kaun duniyā meñ mire nazdīk hai
ik tumhīñ to ho ki jis kā dil dukhā saktā huuñ maiñ
bhiiḌ kā shikva hamesha dūsroñ se kis liye
yaar ḳhud ko bhī to raste se haTā saktā huuñ maiñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں