کوئی خوش تھا تو کوئی رو رہا تھا
جدا ہونے کا اپنا ہی مزہ تھا
نظر کی احتیاطیں کام آئیں
وہ میرا دیکھنا تک دیکھتا تھا
ستم یہ تھا کہ میں اس کا بدل بھی
اسی سے ملتا جلتا ڈھونڈھتا تھا
وہی رفتار تھی قدموں کی لیکن
وہ اب میرے مخالف چل رہا تھا
لبوں تک حال دل وہ بھی نہ لایا
مری قدروں کو وہ پہچانتا تھا
شارق کیفی
koī ḳhush thā to koī ro rahā thā
judā hone kā apnā hī maza thā
nazar kī ehtiyāteñ kaam aa.iiñ
vo merā dekhnā tak dekhtā thā
sitam ye thā ki maiñ us kā badal bhī
usī se miltā-jultā DhūñDhtā thā
vahī raftār thī qadmoñ kī lekin
vo ab mere muḳhālif chal rahā thā
laboñ tak hāl-e-dil vo bhī na laayā
mirī qadroñ ko vo pahchāntā thā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں