شارق کیفی — شاعر کی تصویر

کچھ ساغر چھلکانے تک محدود رہا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

کچھ ساغر چھلکانے تک محدود رہا

کچھ ساغر چھلکانے تک محدود رہا
گھر کا غم میخانے تک محدود رہا
بیچ بیچ میں میرا ہوش میں آنا بھی
منظر کو دھندلانے تک محدود رہا
آج کا قصہ شہزادے کی باتوں میں
پریوں کے آ جانے تک محدود رہا
شہر کی سرحد چند قدم پر تھی لیکن
دیوانہ ویرانے تک محدود رہا
صاف تھی اس کی ہر آہٹ ہر سانس مگر
میں خود کو چونکانے تک محدود رہا
رک رک کر آتی سانسوں کا دھوکہ بھی
صرف اسے جھٹلانے تک محدود رہا

kuchh saghar chhalkane tak mahdud raha

kuchh sāġhar chhalkāne tak mahdūd rahā
ghar kā ġham maiḳhāne tak mahdūd rahā
bīch-bīch meñ merā hosh meñ aanā bhī
manzar ko dhuñdlāne tak mahdūd rahā
aaj kā qissa shahzāde kī bātoñ meñ
pariyoñ ke aa jaane tak mahdūd rahā
shahr kī sarhad chand qadam par thī lekin
dīvāna vīrāne tak mahdūd rahā
saaf thī us kī har aahaT har saañs magar
maiñ ḳhud ko chauñkāne tak mahdūd rahā
ruk ruk kar aatī sāñsoñ kā dhoka bhī
sirf use jhuTlāne tak mahdūd rahā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام