کچھ یوں بھی مرا گھر سے نکلنا نہیں ہوتا
جانے سے مرے کوئی اکیلا نہیں ہوتا
انسان کی اتنی تو سمجھ ہو ہی گئی ہے
دوبارہ کسی سے مرا جھگڑا نہیں ہوتا
اک رات کی تکلیف نے سمجھا دیا مجھ کو
خدمت سے بڑا کوئی دکھاوا نہیں ہوتا
خوش ہے وہ توجہ سے اسے یہ نہیں معلوم
سنتے ہیں وہی ہم جو سمجھنا نہیں ہوتا
جو پوچھ رہے ہیں میں انہیں کیسے بتاؤں
تیار کا مطلب کہیں جانا نہیں ہوتا
شارق کیفی
kuchh yuuñ bhī mirā ghar se nikalnā nahīñ hotā
jaane se mire koī akelā nahīñ hotā
insān kī itnī to samajh ho hī ga.ī hai
dobāra kisī se mirā jhagḌā nahīñ hotā
ik raat kī taklīf ne samjhā diyā mujh ko
ḳhidmat se baḌā koī dikhāvā nahīñ hotā
ḳhush hai vo tavajjoh se use ye nahīñ mā'lūm
sunte haiñ vahī ham jo samajhnā nahīñ hotā
jo pūchh rahe haiñ maiñ unheñ kaise batā.ūñ
tayyār kā matlab kahīñ jaanā nahīñ hotā
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں