لوٹ آئے ہیں جانے والے
سارے پیٹھ دکھانے والے
اک کھونٹے سے باندھ کے مجھ کو
غائب ہیں ٹہلانے والے
جانے خود کس حال میں ہوں گے
تیرا کام بنانے والے
وہ زخموں سے چور مسافر
شانوں پر ڈھ جانے والے
سکہ سکہ بکھر گئے ہیں
سب گلک کھنکانے والے
ایک سفر پر جانے والا
باقی ہاتھ ہلانے والے
پھول بھی کچھ ہاتھ آئے لیکن
رنگو پر ٹرخانے والے
اوپر والی جیب میں رکھنا
نسخے پاگل خانے والے
شارق کیفی
lauT aa.e haiñ jaane vaale
saare piiTh dikhāne vaale
ik khūñTe se bāñdh ke mujh ko
ġhā.eb haiñ Tahlāne vaale
jaane ḳhud kis haal meñ hoñge
terā kaam banāne vaale
vo zaḳhmoñ se chuur musāfir
shānoñ par Dah jaane vaale
sikka sikka bikhar ga.e haiñ
sab gullak khankāne vaale
ek safar par jaane vaalā
baaqī haath hilāne vaale
phuul bhī kuchh haath aa.e lekin
rango par Tarḳhāne vaale
uupar vaalī jeb meñ rakhnā
nusḳhe pāgal-ḳhāne vaale
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں