شارق کیفی — شاعر کی تصویر

میں پہنچا تو یار نہ پہنچا — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

میں پہنچا تو یار نہ پہنچا

میں پہنچا تو یار نہ پہنچا
چھٹی تک اتوار نہ پہنچا
بیچ بھنور میں ڈوب گیا میں
آدھا پونا پار نہ پہنچا
ہاں کہنے پر خود کو منایا
جب اس تک انکار نہ پہنچا
سب پہلے سے طے تھا شاید
کوئی کہیں بے کار نہ پہنچا
شرمندہ ہوں جان بچا کر
گردن تک کیوں بار نہ پہنچا

main pohncha to yar na pohncha

maiñ pohñchā to yaar na pohñchā
chhuTTī tak itvār na pohñchā
biich bhañvar meñ Duub gayā maiñ
aadhā paunā paar na pohñchā
haañ kahne par ḳhud ko manāyā
jab us tak inkār na pohñchā
sab pahle se tai thā shāyad
koī kahīñ bekār na pohñchā
sharminda huuñ jaan bachā kar
gardan tak kyoñ baar na pohñchā

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام