میں وہ تیسرا ہوں
جو خود کو گنہ گار محسوس کرنے کو مجبور ہوتا ہے
پر واقعے میں
ہر اک حادثے کی جگہ پر
عجب امتحاں ہے
اگر چپ رہوں تو کبوتر کو کھا جائے بلی
اڑا دوں
تو بلی مجھے کوستی ہے
کہ میں نے اسے آج فاقہ کرایا
مری ہار دونوں طرف سے ہے
اور وہ بھی اس جنگ میں
جس سے میرا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے
بہ ظاہر
شارق کیفی
maiñ vo tīsrā huuñ
jo ḳhud ko gunahgār mahsūs karne ko majbūr hotā hai
par vāqiye meñ
har ik hādse kī jagah par
ajab imtihāñ hai
agar chup rahūñ to kabūtar ko khā jaa.e billī
uḌā duuñ
to billī mujhe kostī hai
ki maiñ ne use aaj faaqa karāyā
mirī haar donoñ taraf se hai
aur vo bhī is jañg meñ
jis se merā koī duur kā bhī ta.alluq nahīñ hai
ba-zāhir
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں