منظر پورا کرنے والا کوئی نہیں
بھیڑ ہے لیکن مرنے والا کوئی نہیں
یہ لمحے تیری قربت کے لمحے ہیں
ان میں آج گزرنے والا کوئی نہیں
اک تاریخ رہی ہے اس خاموشی کی
کان بھی جس پر دھرنے والا کوئی نہیں
اندر اندر کانپ رہے ہیں دل میں سب
لیکن پہلے ڈرنے والا کوئی نہیں
تم سے جو منسوب ہیں شارقؔ آج تلک
ویسی آہیں بھرنے والا کوئی نہیں
شارق کیفی
manzar puurā karne vaalā koī nahīñ
bhiiḌ hai lekin marne vaalā koī nahīñ
ye lamhe terī qurbat ke lamhe haiñ
in meñ aaj guzarne vaalā koī nahīñ
ik tārīḳh rahī hai us ḳhāmoshī kī
kaan bhī jis par dharne vaalā koī nahīñ
andar andar kaañp rahe haiñ dil meñ sab
lekin pahle Darne vaalā koī nahīñ
tum se jo mansūb haiñ 'shāriq' aaj talak
vaisī aa.heñ bharne vaalā koī nahīñ
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں