مرنا بس اک بار کا دکھ ہے
دائم تو بیمار کا دکھ ہے
میرا دکھ ہے جنگ میں ہونا
زخم مری تلوار کا دکھ ہے
ذلت میں کیا ایسا نیا تھا
صرف بھرے دربار کا دکھ ہے
کون سے آنسو کیسی آہیں
یہ اک دنیا دار کا دکھ ہے
شور شرابہ میری شکایت
سناٹا بازار کا دکھ ہے
کھڑکی کو روتا ہے کمرہ
آنگن کو دیوار کا دکھ ہے
کیسے آنکھ بچاؤں شارقؔ
میز پہ خاطر دار کا دکھ ہے
شارق کیفی
marnā bas ik baar kā dukh hai
daa.im to bīmār kā dukh hai
merā dukh hai jang meñ honā
zaḳhm mirī talvār kā dukh hai
zillat meñ kyā aisā nayā thā
sirf bhare darbār kā dukh hai
kaun se aañsū kaisī aa.heñ
ye ik duniyā-dār kā dukh hai
shor-sharāba merī shikāyat
sannāTā bāzār kā dukh hai
khiḌkī ko rotā hai kamra
āñgan ko dīvār kā dukh hai
kaise aañkh bachā.ūñ 'shāriq'
mez pa ḳhātir-dār kā dukh hai
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں