میہماں گھر میں بھرے رہے
دن بھر بستر کھلے رہے
میرے لیے کیا ہجر و وصال
ہاں گھر والے ڈرے رہے
اس نے بھی آواز نہ دی
ہم بھی ایسے بنے رہے
اتنی کون سمجھتا ہے
میرے دکھ ہی بڑے رہے
اتنے سال پرانے خواب
اب تک کیسے نئے رہے
چھو تو لیا پر ہاتھ اپنے
دن بھر ڈھونڈے پڑے رہے
اک معصوم اشارے کے
گھر گھر قصے چھڑے رہے
شارق کیفی
mehamāñ ghar meñ bhare rahe
din-bhar bistar khule rahe
mere liye kyā hijr-o-visāl
haañ ghar vaale Dare rahe
us ne bhī āvāz na dī
ham bhī aise bane rahe
itnī kaun samajhtā hai
mere dukh hī baḌe rahe
itne saal purāne ḳhvāb
ab tak kaise na.e rahe
chhū to liyā par haath apne
din-bhar DhūñDe paḌe rahe
ik mā'sūm ishāre ke
ghar ghar qisse chhiḌe rahe
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں