شارق کیفی — شاعر کی تصویر

محور مجھے بنا سکتے ہو — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

محور مجھے بنا سکتے ہو

محور مجھے بنا سکتے ہو
اپنی دھوپ بچا سکتے ہو
خواب توانا ہے تو کیا ہے
جسم سے دھوکا کھا سکتے ہو
گٹھری رکھ دیں پیٹھ ٹکا لیں
اتنی جگہ بنا سکتے ہو
کوئی بدل ملنے تک میرا
مجھ سے کام چلا سکتے ہو
آج نہیں پابندی کوئی
موت کا گھر ہے آ سکتے ہو
تم سے جھگڑتے ڈر لگتا ہے
ماضی بیچ میں لا سکتے ہو
شکل بدل کر آتا ہوں میں
تم تب تک سستا سکتے ہو

mehwar mujhe bana sakte ho

mehvar mujhe banā sakte ho
apnī dhuup bachā sakte ho
ḳhvāb tavānā hai to kyā hai
jism se dhokā khā sakte ho
gaThrī rakh deñ piiTh Tikā leñ
itnī jagah banā sakte ho
koī badal milne tak merā
mujh se kaam chalā sakte ho
aaj nahīñ pābandī koī
maut kā ghar hai aa sakte ho
tum se jhagaḌte Dar lagtā hai
maazī biich meñ lā sakte ho
shakl badal kar aatā huuñ maiñ
tum tab tak sustā sakte ho

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام