مدتوں بعد کہیں ایسی گھٹا چھائی تھی
پیاس کی دھندھ پھر آنکھوں پہ اتر آئی تھی
فیصلے اپنے زمانے پہ کبھی مت چھوڑو
میں نے یہ بات اسے پہلے ہی سمجھائی تھی
حیرتی ہوں کہ وہ اتنا بھی نبھا پایا مجھے
اس کی جس طرح کے لوگوں سے شناسائی تھی
عشق اس درجہ کتابی بھی نہیں ہو سکتا
وہ دکھاوے وہ اداکاری ہی سچائی تھی
کوئی معمول میں تبدیلی نہیں تھی لیکن
گھر میں کچھ آج عجب طرح کی تنہائی تھی
شارق کیفی
muddatoñ baa'd kahīñ aisī ghaTā chhā.ī thī
pyaas kī dhundh phir āñkhoñ pe utar aa.ī thī
faisle apne zamāne pe kabhī mat chhoḌo
maiñ ne ye baat use pahle hī samjhā.ī thī
hairatī huuñ ki vo itnā bhī nibhā paayā mujhe
us kī jis tarh ke logoñ se shanāsā.ī thī
'ishq is darja kitābī bhī nahīñ ho saktā
vo dikhāve vo adākārī hī sachchā.ī thī
koī mā'mūl meñ tabdīlī nahīñ thī lekin
ghar meñ kuchh aaj 'ajab tarh kī tanhā.ī thī
شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...
مکمل تعارف پڑھیں