شارق کیفی — شاعر کی تصویر

مجھے ہنسنا پڑا آخر — شارق کیفی

شاعر

تعارف شاعری

مجھے ہنسنا پڑا آخر

مجھے ہنسنا پڑا آخر
انہیں باتوں پہ
جن پر میں بہت ناراض تھا اس سے
یہ اک طرفہ محبت
یوں بھی اتنا درد دیتی ہے
کہ اس میں بیچ کا رستہ کبھی ممکن نہیں ہوتا
وہی جھکتا ہے
جس کو دوسرا درکار ہوتا ہے
کسی قیمت پہ چاہے جو بھی ہو جائے

mujhe hansna paDa aaKHir

mujhe hañsnā paḌā āḳhir
unhīñ bātoñ pe
jin par maiñ bahut nārāz thā us se
ye ik-tarfa mohabbat
yuuñ bhī itnā dard detī hai
ki is meñ biich kā rasta kabhī mumkin nahīñ hotā
vahī jhuktā hai
jis ko dūsrā darkār hotā hai
kisī qīmat pe chāhe jo bhī ho jaa.e

شاعر کے بارے میں

شارق کیفی

شارق کیفی عہدِ حاضر کے اہم اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد فکری بصیرت، سادہ مگر پُراثر اسلوب اور عصری شعور کے باعث ادبی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ 1961ء میں بریلی، اتر پردیش میں پیدا ہونے والے شارق کیفی کو ادبی ذوق اپنے خاندانی ماحول سے وراثت میں ملا۔ ان کے والد کیفی وجدانی (سید رفاقت حسین) خود ایک معتبر شاعر تھے، چنانچہ شعری...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام